بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ شیخ احمد قبلان نے لبنان کے عوام سے مخاطب ہوکر کہا: میں لبنان کے عوام اور سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں کہ موجودہ حکومت کے فتنے کی آگ کو فوری طور بجھا دیں اس سے پہلے کہ یہ پورے لبنان کو جلا دے۔
شیخ قبلان نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اجازت نہیں دینی چاہیے کہ "لبنان ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ایسی ٹیم کے ہاتھوں آگ کے شعلوں میں جل جائے جو اس فتنے کے لئے منتخب کی گئی تھی۔"
لبنانی مفتی نے اپنے ملک کے عوام سے کہا: "ہمیں ایک خاندان کی طرح اور ایک قومی فریم ورک کی بنیاد پر رہنا چاہئے ایسا فریم ورک جو 'لبنان کی خودمختاری' کا ضامن ہو۔"
لبنان اور اسرائیل نے جمعہ کی شام، واشنگٹن میں، امریکی ثالثی میں پانچویں دور کے چار روزہ مذاکرات اور مذاکرات کے بعد، ایک عمومی اور ابتدائی معاہدے پر دستخط کئے۔
لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے رکن حسن فضل اللہ نے فیصلہ کن انداز سے کہا: "حزب اللہ اس طرح کے معاہدے کو ناجائز اور غیر قانونی سمجھتا ہے اور اس کے نفاذ کے خلاف مزاحمت کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا۔"
انھوں نے کہا: "اسرائیلی دشمن کے ساتھ براہ راست مذاکرات لبنان کے آئین کے آرٹیکل 52 سے یکسر متصادم ہے اور کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ دشمنی کی کیفیت ختم کر دے۔"
ادھر ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے پہلے ہی دن سے لبنانی حکومت اور صہیونی حکام کے درمیان نام نہاد معاہدے کی حقیقت بے نقاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ "کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے پورے سیکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج کو فوجی کارروائیوں کی آزادی برقرار رکھی جائے گی۔"
اسرائیل اور امریکہ کی چاپلوسی کی خاطر لبنانی حکومت کی فتنہ انگیزی
شیخ احمد قبلان نے کہا: "فی الحال جنوب کے رہائشیوں کا مسئلہ، اہم نہیں ہیں؛ حقیقت یہ ہے کہ کچھ ہؤا ہے وہ ایک شرارت بھری سودے بازی اور ایک خطرناک سازباز ہے جس کا مقصد لبنان کو اندرونی فتنے کے بھنور میں دھکیلنا ہے؛ ایک فتنہ جو اگر بھڑکا تو خشک و تر دونوں کو جلا کر راکھ کر دے گا۔ یہ معاہدہ جنگ کو سرحدوں کے باہر سے لبنان کے اندر کھینچ لایا ہے۔"
انھوں نے کہا: "لبنان کے صدر جوزف عون اور اس کی ٹیم کے ارکان اس قومی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔"
انھوں نے مزید کہا: "یہ معاہدہ دہشت گرد اسرائیل کو لبنانی فوج اور سیاسی نظام پر سرپرستی کا حق دے دیتا ہے۔ یہ ایک تباہ کن مسئلہ ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے اور ہم اسے کبھی بھی نافذ نہیں ہونے دیں گے۔"
علامہ شیخ احمد قبلان نے کہا: "جوزف عون اس معاہدے کو نافذ کر کے لبنان کو آگ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔" انھوں نے کہا: "جوزف عون لبنانی فوج کو ملک کے عوام کے مقابلے میں لا کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ہم ان تمام لوگوں کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے جو لبنان میں صہیونی منصوبے کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔"
انھوں نے زور دے کر کہا: "عون حکومت کی کوشش ہے کہ لبنان حزب اللہ کے ہتھیاروں سے خالی ہوجائے۔" [اور صہیونی جارحیتوں کے سامنے نہتا ہوجائے]۔
انھوں نے کہا: "اس حقیقت کے باوجود کہ حکومت جانتی ہے کہ حزب اللہ کو نہتا کرنا ناممکن ہے، پھر بھی وہ تل ابیب اور واشنگٹن کے مفاد اور خوشنودی کے لئے خود کو اس وجودی فتنے میں مبتلا کرنا چاہتی ہے۔ یہاں گہرا قومی اور علاقائی معاملہ ہے اور کوئی بھی غلط حساب کتاب ہمیں ایک تباہ کن علاقائی جنگ کے مرکز میں ڈال دے گا۔"
شیخ قبلان نے آخر میں کہا: "لبنان میں امریکی-صہیونی جولانیوں کا دور اختتام پذیر ہوچکا ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ